صحيح مسلم - حدیث 2418

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ لَابْتَغَى ثَالِثًا صحيح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالًا لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَا أَدْرِي أَمِنْ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَمِنْ الْقُرْآنِ لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2418

کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل اگر ابن آدم کے پاس (مال کی بھری ہوئی )دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری وادی حاصل کرنا چاہے گا مجھے زہیر بن حرب اور ہا رون بن عبد اللہ نے حدیث سنا ئی دو نوں نے کہا :ہمیں حجا ج بن محمد نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عطا ء سے سنا کہہ رہے تھے میں نے حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا :" اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال سے بھر ی ہو ئی ایک وادی ہو تو وہ چا ہے گا کہ اس کے پاس اس جیسی اور وادی بھی ہو آدمی کے دل کو مٹی کے سوا کچھ اور نہیں بھر سکتا اور اللہ اس پر تو جہ فر ما تا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہو، حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں ہے انھوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں یہ با ت قرآن میں سے ہے (یا نہیں) انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔