صحيح مسلم - حدیث 2257

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لِأَهْلِهَا صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ فَكَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمْ الْعَافِيَةَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2257

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل قبر ستان میں داخل ہوتے وقت کیا کہا جائے اور اہل قبرستان کے لیے دعا ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا:ہمیں محمد بن عبد اللہ اسدی نے سفیان سے حدیث سنائی،انھوں نے علقمہ بن مرثد سے،انھوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انھوں نے ا پنے والد(بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ )سے روایت کی،انھوں نے کہا:جب وہ قبرستان جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تعلیم دیا کرتے تھے تو (سیکھنے کے بعد)ان کا کہنے والا کہتا:ابو بکر کی روایت میں ہے:"سلامتی ہو مسلمانوں اور مومنوں کے ٹھکانوں میں رہنے والوں پر"اورزہیر کی روایت میں ہے؛"مسلمانوں اور مومنوں کے ٹھکانے میں رہنے والو تم پر۔۔۔اور ہم ان شاء اللہ ضرور(تمہارے ساتھ) ملنے والے ہیں،میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اور تمھارے لئے عافیت مانگتا ہوں۔"