صحيح مسلم - حدیث 2255

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لِأَهْلِهَا صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيكٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ وَلَمْ يُقِمْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ وَأَتَاكُمْ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2255

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل قبر ستان میں داخل ہوتے وقت کیا کہا جائے اور اہل قبرستان کے لیے دعا یحییٰ بن یحییٰ تمیمی،یحییٰ بن ایوب اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث سنائی۔۔۔یحییٰ بن یحییٰ نے کہا:ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا:ہمیں حدیث سنائی۔۔۔اسماعیل بن جعفر نے شریک سے،انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے،انھوں نے کہا:۔۔۔جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے پاس ہوتی تو۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع(کے قبرستان میں ) تشریف لے جاتے اور فرماتے:"اے ایمان رکھنے والی قوم کے گھرانے!تم پر اللہ کی سلامتی ہو،کل کے بارے میں تم سے جس کا وعدہ کیا جاتا تھا،وہ تم تک پہنچ گیا۔تم کو(قیامت) تک مہلت دے دی گئی اور ہم بھی،اگر اللہ نے چاہا تم سے ملنے والے ہیں۔اے اللہ!بقیع غرقد(میں رہنے ) والوں کو بخش دے۔"قتیبہ نے(اپنی روایت) میں"واتاکم"(تم تک پہنچ گیا) نہیں کہا۔۔۔