كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ صحيح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتْ ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَيْ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ قَالَ مُسْلِم سُهَيْلُ بْنُ دَعْدٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَيْضَاءِ أُمُّهُ بَيْضَاءُ
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ جب حضر ت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:ان کو مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی انکی نماز جنازہ ادا کرسکوں۔ان کی اس بات پر اعتراض کیا گیا تو انھوں نے کہا:اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی(سہل) رضوان اللہ عنھم اجمعین کا جنازہ مسجد میں ہی پڑھا تھا۔ امام مسلم ؒ نے کہا:سہیل بن دعد،جو ابن بیضاء ہے،اس کی ماں بیضاء تھیں۔(بیضاء کا اصل نام دعد تھا،سہیل کے والد کا نام وہب بن ربیعہ تھا،اسے شرف صحبت حاصل نہ ہوا۔)