كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ أَيْنَ يَقُومُ الْإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ صحيح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ لَقَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا فَكُنْتُ أَحْفَظُ عَنْهُ فَمَا يَمْنَعُنِي مِنْ الْقَوْلِ إِلَّا أَنَّ هَا هُنَا رِجَالًا هُمْ أَسَنُّ مِنِّي وَقَدْ صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ وَسَطَهَا وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلَاةِ وَسَطَهَا
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل امام جنازہ پڑھنے کےلیے میت کے سامنے کہا ں کھڑا ہو محمد بن مثنیٰ اور عقبہ بن مکرم عمی نے کہا:ہمیں ابن ابی عدی نے حسین(بن ذکوان) سے حدیث بیان کی اور انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے روایت کی ،انھوں نے کہا:حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نوعمر لڑکا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے(احادیث سن کر)یاد کیا کر تا تھا اور مجھے بات کرنے سے اس کے سوا کوئی چیز نہ روکتی کہ یہاں بہت لوگ ہیں جو عمر میں مجھ سےبڑے ہیں،میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک عورت کی نماز جنازہ ادا کی جوحالت نفاس میں وفات پاگئیں تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اس کے(سامنے)درمیان میں کھڑے ہوئے تھے۔ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے(حسین نے) کہا:مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حدیث سنائی اور کہا:آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کےلئے اس کے(سامنے) درمیان میں کھڑے ہوئے تھے۔