كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ أَيْنَ يَقُومُ الْإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ صحيح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ وَهِيَ نُفَسَاءُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهَا وَسَطَهَا
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل امام جنازہ پڑھنے کےلیے میت کے سامنے کہا ں کھڑا ہو عبدالوارث بن سعیدنے حسین بن ذکوان سے خبردی،انھوں نے کہا:مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی،انھوں نے کہا:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی جو حالت نفاس میں وفات پاگئیں تھیں،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے اس کے(سامنے) درمیان میں کھڑے ہوئے۔