صحيح مسلم - حدیث 2227

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ صحيح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَنَّهُ قَالَ رَآنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ وَنَحْنُ فِي جَنَازَةٍ قَائِمًا وَقَدْ جَلَسَ يَنْتَظِرُ أَنْ تُوضَعَ الْجَنَازَةُ فَقَالَ لِي مَا يُقِيمُكَ فَقُلْتُ أَنْتَظِرُ أَنْ تُوضَعَ الْجَنَازَةُ لِمَا يُحَدِّثُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ نَافِعٌ فَإِنَّ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَنِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2227

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل جنازے کے لیے قیام کا منسوخ ہو جانا لیث نے یحییٰ بن سعید سے اور انھوں نے واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ سے روایت کی،انھوں نے کہا:نافع بن جبیر نے مجھے کھڑے ہونے کی حالت میں دیکھا جبکہ ہم ایک جنازے میں شریک تھے اور وہ خود بیٹھ کر جنازے کو رکھ دیئے جانے کا انتظار کررہے تھے۔تو انھوں نے مجھے کہا:تمھیں کس چیز نے کھڑا کررکھا ہے؟میں نے کہا:میں انتظار کررہا ہوں کہ جنازہ رکھ دیا جائے کیونکہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( اسکے بارے میں )حدیث بیان کرتے ہیں۔تو نافع نے کہا:مجھے مسود بن حکم نے حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ہے،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ابتداء میں جنازوں کے لئے ) کھڑے ہوئے ،پھر (بعد میں)بیٹھتے رہے۔ اور انھوں نے(نافع) نے یہ روایت اس لئے بیا ن کی کہ نافع بن جبیر نے واقد بن عمرو کو دیکھا وہ جنازے کے رکھ دیئے جانے تک کھڑے رہے۔