كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَاتِّبَاعِهَا صحيح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل جنازے پر نماز پڑھنے اور جنازے کے ساتھ جانے کی فضیلت شعبہ نے کہا :ہمیں قتادہ نے سالم بن ابی جعد سے حدیث سنا ئی انھوں نے معدان ابن ابی طلحہ یعمری سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :" جس نے نماز جنا زہ پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور اگر وہ اس کے دفن میں شامل ہوا تو اس کے لیے دو قیرا ط ہیں ( ایک ) قیرا ط احد (پہاڑ ) کے ما نند ہے ۔