كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ صحيح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ إِحْدَى بَنَاتِهِ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَيُّوبَ وَعَاصِمٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَتْ فَضَفَرْنَا شَعْرَهَا ثَلَاثَةَ أَثْلَاثٍ قَرْنَيْهَا وَنَاصِيَتَهَا
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل میت کو کفن دینا ہشا م بن حسان نے حفصہ بنت سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشر یف لا ئے اور ہم آپ کی بیٹیوں میں سے ایک کو غسل دے رہی تھیں تو آپ نے فر ما یا :"اسے طاق تعداد میں پانچ یا اس سے زائد بار غسل دینا ۔(آگے) ایوب اور عاصم کی حدیث کے ہم معنی (حدیث بیان کی) اس حدیث میں انھوں نے کہا: (ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے)کہا: ہم نے ان کے بالوں کو تین تہائیوں میں گو ندھ دیا ان کے سر کے دو نوں طرف اور انکی پیشانی کے بال ۔