كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي عِيَادَةِ الْمَرْضَى صحيح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْبَرَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَخَا الْأَنْصَارِ كَيْفَ أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ صَالِحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ وَلَا خِفَافٌ وَلَا قَلَانِسُ وَلَا قُمُصٌ نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتَّى جِئْنَاهُ فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْلِهِ حَتَّى دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل بیماروں کی عیادت کرنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا،اس نے آپ کو سلام کہا اور پھر وہ انصاری پشت پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اے انصار کے بھائی(انصاری)!میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا حال ہے ؟"اس نے عرض کی : وہ اچھا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم میں سے کون اسکی عیادت کرے گا؟"پھر آپ اٹھے اور آپ کےساتھ ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے،ہم دس سے زائد لوگ تھے،ہمارے پاس جوتے نہ تھے نہ موزے،نہ ٹوپیاں اور نہ قمیص ہی۔ہم اس شوریلی زمین پر چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے،ان کی قوم کے لوگ ان کے ارد گرد سے پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جو آپ کےساتھ تھے،(ان کے) قریب ہوگئے۔