صحيح مسلم - حدیث 2131

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي إِغْمَاضِ الْمَيِّتِ وَالدُّعَاءِ لَهُ إِذَا حُضِرَ صحيح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَلَمْ يَقُلْ افْسَحْ لَهُ وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2131

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل میت کی آنکھیں بند کرنا اور جب (موت کا) وقت آجائے تو اس کے لیے دعا کرنا عبیداللہ بن حسن نے کہا:ہمیں خالد حذاء نے اسی (مذکورہ بالا)سند کے ساتھ اس(سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی،اس کے سوا کہ انھوں نے(واخلفہ فی عقبہ کے بجائے) واخلفہ فی ترکتہ(جو کچھ اس نے چھوڑا ہے،یعنی اہل ومال،اس میں اس کا جانشین بن)کہا،اور انھوں نےاللہم!اوسع لہ فی قبرہ(اے اللہ!اس کے لئے اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما)کہا اورافسح لہ(اوراس کے لئے کشادگی پیدا فرما)نہیں کہا اور(عبیداللہ نے) یہ زائد بیان کیا کہ خالد حذاء نے کہا:ایک اور ساتویں دعا کی جسے میں بھول گیا۔