كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ صحيح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ سَفِينَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل مصیبت کے وقت کیا کہا جاتا ہے ؟ ابو اسامہ نے سعد بن سعید سے روایت کی،انھوں نے کہا:مجھے عمر بن کثیر بن افلح نے خبر دی،انھوں نے کہا:میں نے ابن سفینہ سے سنا،وہ بیان کررہے تھے کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ کو یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :"کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے:بےشک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اے اللہ!مجھے میری مصیبت کا اجردے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما،مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتاہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتاہے۔" (حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے)کہا:تو جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے،میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرمادیا۔