كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ فَقُلْتُ إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ فَقَالَ أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَهَا عَنْهَا وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِالْغَيْرَةِ
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل مصیبت کے وقت کیا کہا جاتا ہے ؟ اسماعیل بن جعفر نےکہا:مجھے سعد بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے خبر دی،انھوں نے(عمر) ابن سفینہ سے اور انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی،انھوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:"کوئی مسلمان نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ(وہی کچھ) کہے جس کا اللہ نے اسے حکم دیا ہے:"یقینا ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں،اے اللہ!مجھے میری مصیبت پر اجر دے اور مجھے(اس کا) اس سے بہتر بدل عطا فرما"مگر اللہ تعالیٰ اسے اس(ضائع شدہ چیز) کا بہتر بدل عطا فرمادیتا ہے۔" (ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا:جب (میرے خاوند) ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے تو میں نے(دل میں ) کہا:کون سا مسلمان ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر (ہوسکتا ) ہے!وہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی۔پھر میں نے وہ(کلمات) کہےتو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اس کا بدل عطا فرمادیا،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے نکاح کا پیغام دیتے ہوئے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میرے پا س بھیجا تو میں نے کہا:میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت کرنے والی ہوں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس کی بیٹی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کو اس(ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے بے نیاز کردے اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ(بے جا)غیرت کو(اس سے ) ہٹا دے۔"