كِتَابُ الْكُسُوفِ بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْعَلَاءِ كَسَفَتْ الشَّمْسُ وَقَالَ يُخَوِّفُ عِبَادَهُ
کتاب: سورج اور چاند گرہن کے احکام نماز کسوف کا اعلان الصلاۃ جامعۃ (نماز جمع کرنے والی ہے )کے الفاظ سے کرنا ابو عامر اشعری عبداللہ بن براد اور محمد بن علاء نے کہا:ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث سنائی،انھوں نے ابو بردہ سے اور انھوں نے ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ تیزی سے اٹھے،آپ کو خوف لاحق ہوا کہ مبادا قیامت (آگئی)ہو،یہاں تک کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے اور آپ کھڑے ہوئے بہت طویل قیام،رکوع اورسجدے کے ساتھ نماز پڑھتے رہے،میں نے کبھی آپ کو نہیں دیکھا تھا کہ کسی نماز میں(آپ نے) ایسا کیا ہو،پھر آپ نے فرمایا:"یہی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔یہ کسی کی موت یا زندگی کی بناء پر نہیں ہوتیں،بلکہ اللہ ان کو بھیجتا ہے تاکہ ان کے زریعے سے اپنے بندوں کو(قیامت سے) خوف دلائے،اس لئے جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو جلد از جلد اس کے ذکر،دعا اور استغفار کی طرف لپکو،"ابن علاء کی ر وایت میں"خسفت الشمس" کے بجائے) کسفت الشمس (سورج کو گرہن لگا) کے الفاظ ہیں(معنی ایک ہی ہے) اور انھوں نے(یخوف بہا عبادہ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے کے بجائے) یخوف عبادہ (اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے) کہا۔