صحيح مسلم - حدیث 2107

كِتَابُ الْكُسُوفِ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ صحيح و حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ قِيَامًا طَوِيلًا يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَزَادَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ أَسَنَّ مِنِّي وَإِلَى الْأُخْرَى هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2107

کتاب: سورج اور چاند گرہن کے احکام نماز کسوف کے دوران میں بنی اکرم ﷺ کے سامنے جنت اور دوزخ کے جوحالات پیش کیے گئے یحیٰ اموی نے کہا: ہم سے ا بن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔( اس میں) انھوں نے کہا: (آپ نے ) طویل قیام کیا ، آپ قیام کرتے، پھر رکو ع میں چلے جاتے ۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا :میں (بیٹھنے کا ارادہ کرتی تو ) ایسی عورت کو دیکھنے لگتی جو مجھ سے بڑھ کر عمر رسیدہ ہوتی اور کسی دوسری کو دیکھتی جو مجھ سے زیادہ بیمار ہوتی( اور ان سے حوصلہ پا کر کھڑی رہتی ۔)