كِتَابُ الْكُسُوفِ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ صحيح و حَدَّثَنِيهِ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَرَأَيْتُ فِي النَّارِ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً وَلَمْ يَقُلْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ
کتاب: سورج اور چاند گرہن کے احکام نماز کسوف کے دوران میں بنی اکرم ﷺ کے سامنے جنت اور دوزخ کے جوحالات پیش کیے گئے عبدالملک بن صباح نے ہشام دستوائی سے اسی سند کےھ ساتھ اسی(سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی،مگر انھوں نے کہا:(آپ نے فرمایا:)"میں نے آگ میں بلاد حمیر کی(رہنے والی) ایک سیاہ لمبی عورت دیکھی۔"اور انھوں نےمن بنی اسرائیل (بنی اسرائیل کی) کے الفاظ نہیں کہے۔