صحيح مسلم - حدیث 2100

كِتَابُ الْكُسُوفِ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ صحيح و حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَاكَ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُولَجُونَهُ فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا فَإِذَا خَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2100

کتاب: سورج اور چاند گرہن کے احکام نماز کسوف کے دوران میں بنی اکرم ﷺ کے سامنے جنت اور دوزخ کے جوحالات پیش کیے گئے اسماعیل ابن علیہ نے ہشام دستوائی سے روایت کی،انھوں نے کہا:ہمیں ابو زبیر نے جابر بن عبداللہ سے حدیث سنائی،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن سورج کوگرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں(صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کے ساتھ نمازپڑھی،آپ نے(اتنا) لمبا قیام کیا کہ کچھ لوگ گرنے لگے،پھر آپ نے رکوع کیا اوراے لمبا کیا،پھر(رکوع سے) سر اٹھایا اور لمبا(قیام) کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر رکوع کیا اور لمبا کیا۔پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(رکوع سے) سر اٹھایا اور (اس قیام کو لمبا ) کیا،پھر دو سجدے کیے،پھر آپ(دوسری رکعت کے لئے) اٹھے اور اسی طرح کیا،اس طرح چار رکوع اورچار سجدے ہوگئے،پھر آپ نے فرمایا:بلاشبہ مجھ پر ہر وہ چیز(حشر نشر،پل صراط،جنت اور دوزخ)جس میں سے تم گزروگے ،پیش کی گئی،میرے سامنے جنت پیش کی گئی حتیٰ کہ اگر میں اس میں سے ایک گچھے کو لینا چاہتا تو اسے پکڑ لیتا۔یا آپ نے(یوں) فرمایا:میں نے ایک گچھہ لیناچاہا تو میرا ہاتھ اس تک نہ پہنچا،اور میرے سامنے جہنم پیش کی گئی تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت دیکھی جسے اپنی بلی(کے معاملے) میں عذاب دیا جارہا تھا۔اس نے اسے باندھ دیا نہ اسے کچھ کھلایا(پلایا) نہ اسے چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے چھوٹے موٹے جاندار پرندے وغیرہ کھالیتی۔اور میں نے ابو ثمامہ عمرو(بن عامر) بن مالک(جس کالقب لحی تھا اور خزاعہ اس کی اولاد میں سے تھا)کو دیکھا کہ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہاتھا،لوگ کہا کرتے تھےکہ سورج اور چاند کسی عظیم شخصیت کی موت پر ہی بے نور ہوتے ہیں،حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔جو وہ تمھیں دیکھاتا ہے،جب انھیں گرہن لگے تو اس وقت تک نماز پڑھتے رہو کہ وہ(گرہن) چھٹ جائے۔"