صحيح مسلم - حدیث 2092

كِتَابُ الْكُسُوفِ بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ صحيح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ أَبُو عَمْرٍو وَغَيْرُهُ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ مُنَادِيًا الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعُوا وَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ وَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2092

کتاب: سورج اور چاند گرہن کے احکام سورج یا چاند گرہن کی نماز ابو عمرو اوزاعی اور ان کے علاوہ د وسرے(راوی،دونوں میں سے ہرایک)نے کہا:میں نے ابن شہاب زہری سے سنا،وہ عروہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کوگرہن لگ گیا تو آپ نے یہ اعلان کرنے والا(ایک شخص)بھیجاکہ"کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔اس پر لوگ جمع ہوگئے،آپ آگے بڑھے،تکبیر تحریمہ کہی اور چار رکوعوں اور چار سجدوں کےساتھ دو رکعتیں پڑھیں۔