كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ صحيح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا وَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ وَهَلَكَتْ الْبَهَائِمُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْأَعْلَى فَتَقَشَّعَتْ عَنْ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوَالَيْهَا وَمَا تُمْطِرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ
کتاب: بارش طلب کرنے کی نماز بارش طلب کرنے کی دعا عبدالاعلیٰ بن حماد اور محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا:ہمیں معتمر نے حدیث بیا ن کی،انھوں نے کہا:ہمیں عبیداللہ نے ثابت بنانی سے اور انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے،(بات شروع کرنے والے بدو کے ساتھ دوسرے بھی شامل ہوگئے)وہ فریاد کرنے لگے اور کہنے لگے:اےاللہ کے نبی !بارش بندہوگئی ،درختوں(کے پتے سوکھ کر) سرخ ہوگئے اور مویشی ہلاک ہوگئے۔۔۔اور(آگے مذکورہ بالا حدیث کے مانند) حدیث بیان کی۔اس میں عبدالاعلیٰ کی روایت سے یہ (الفاظ) ہیں:مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور اس کے ارد گرد بارش برسانے لگے جبکہ مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برس رہاتھا میں نے مدینہ کو دیکھا وہ ایک طرح کے تاج کے اندر(بارش سے محفوظ) تھا۔