كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ صحيح حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَ حَبَشٌ يَزْفِنُونَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي الْمَسْجِدِ فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى مَنْكِبِهِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ عَنْ النَّظَرِ إِلَيْهِمْ
کتاب: نماز عیدین کے احکام و مسائل عید کے دنوں میں ایسے کھیل کی اجازت ہے جس میں گناہ نہ ہو جریر نے ہشام سے ،انھوں نے اپنے والد(عروہ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی،انھوں نے کہا:حبشی آکر عید کے دن مسجد میں ہتھیاروں کے ساتھ اچھل کود رہے تھے،(ہتھیاروں کا مظاہرہ کررہے تھے)تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا،میں نے اپنا سر آپ کے کندھے پر رکھا اور ان کا کھیل (کرتب) دیکھنے لگی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے) یہاں تک کہ میں نے خود ہی ان کے کھیل کے نظارے سے واپسی اختیار کی۔