صحيح مسلم - حدیث 2061

كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ قَالَتْ وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2061

کتاب: نماز عیدین کے احکام و مسائل عید کے دنوں میں ایسے کھیل کی اجازت ہے جس میں گناہ نہ ہو ابو اسامہ نے ہشام سے،انھوں نے اپنے والد(عروہ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی،انھوں نے کہا:حضرت ابو بکر میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس انصار کی دو بچیاں تھیں۔اور انصار نے جنگ بعاث میں جو اشعار ایک دوسرے کے مقابلے میں کہےتھے،انھیں گارہی تھیں۔کہا:وہ کوئی گانے والیاں نہ تھیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے(انھیں دیکھ کر) کہا:کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کی آواز(بلند ہورہی ) ہے؟اور یہ عید کے دن ہوا تھا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ابو بکر!ہر قوم کے لئے ایک عید ہے اور یہ ہماری عید ہے۔"