كِتَابُ الْجُمُعَةِ بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ صحيح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ وَصَفَ تَطَوُّعَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ قَالَ يَحْيَى أَظُنُّنِي قَرَأْتُ فَيُصَلِّي أَوْ أَلْبَتَّةَ
کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل جمعے کے بعد نماز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا:میں نے امام مالکؒ پر(حدیث کی) قراءت کی،انھوں نے نافع سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کو بیان کیا اورکہا کہ آپ جمعے کے بعد کوئی (نفل) نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ واپس تشریف لے جاتے پھر ا پنے گھر میں د و رکعتیں پڑھتے تھے۔یحییٰ بن یحییٰ نے کہا:میرا خیال ہے کہ میں نے(امام مالکؒ کے سامنے)"فیصلی"پڑھا تھا یا یقین ہے(کہ یہی پڑھاتھا)