صحيح مسلم - حدیث 2009

كِتَابُ الْجُمُعَةِ بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ صحيح حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ وَإِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2009

کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل نماز جمعہ اور خطے میں تخفیف ابو وائل نے کہا:ہمارے سامنے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیا۔انتہائی مختصر اورانتہائی بلیغ(بات کی) جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا:ابویقظان! آپ نے انتہائی پر تاثیر اور انتہائی مختصر خطبہ دیاہے ،کاش! آپ سانس کچھ لمبی کرلیتے(زیادہ دیر بات کرلیتے) انھوں نے فرمایا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:"انسان کی نماز کا طویل ہونا اوراس کے خطبے کاچھوٹا ہونا اس کی سمجھداری کی علامت ہے،اس لئے نماز لمبی کرو اور خطبہ چھوٹا دو،اوراس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بیان جادو(کی طرح) ہوتا ہے۔"