كِتَابُ الْجُمُعَةِ بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ صحيح و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ نَذْهَبُ إِلَى جِمَالِنَا فَنُرِيحُهَا زَادَ عَبْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ يَعْنِي النَّوَاضِحَ
کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل جمعے کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت ہے قاسم بن زکریا نے کہا:ہمیں خالد بن مخلد نے حدیث بیان کی،نیز عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی نے کہا:ہمیں یحییٰ بن حسان نے حدیث بیان کی،ان دونوں(خالد اوریحییٰ) نے کہا:ہمیں سلیمان بن بلال نے جعفر سےحدیث بیا ن کی،انھوں نےاپنے والد (محمد) سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت جمعہ پڑھتے تھے؟انھوں نے کہا:آپ جمعہ پڑھاتے،پھر ہم اونٹوں کے پاس جاتے،پھر انہیں آرام کا وقت دیتے۔ عبداللہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: جس وقت سورج ڈھل جاتا۔(جمال سے مراد)تواضح،یعنی پانی لانے والے اونٹ ہیں۔