صحيح مسلم - حدیث 1989

كِتَابُ الْجُمُعَةِ بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ صحيح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا قَالَ حَسَنٌ فَقُلْتُ لِجَعْفَرٍ فِي أَيِّ سَاعَةٍ تِلْكَ قَالَ زَوَالَ الشَّمْسِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1989

کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل جمعے کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت ہے حسن بن عیاش نے جعفر بن محمد سے،انھوں نے اپنے والد (محمد ) سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے،پھر واپس آتے،پھر اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام کا وقت دیتے،حسن نےکہا:میں نے جعفر سے کہا:یہ (نماز) کس وقت ہوتی؟انھوں نے کہا:سورج کے ڈھلنے کے وقت۔