صحيح مسلم - حدیث 1986

كِتَابُ الْجُمُعَةِ بَابُ فَضْلِ التَّهْجِيرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ صحيح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكٌ يَكْتُبُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ مَثَّلَ الْجَزُورَ ثُمَّ نَزَّلَهُمْ حَتَّى صَغَّرَ إِلَى مَثَلِ الْبَيْضَةِ فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ وَحَضَرُوا الذِّكْرَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1986

کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل جمعے کے دن جلد (مسجد)پہنچنے کی فضیلت سہیل کے والد ابو صالح سمان نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہوتاہے جو پہلے پھر پہلے آنے والے کا نام لکھتا ہے۔آپ نے اونٹ کی قربانی کی مثال دی،پھر بتدریج کم کرتے گئے یہاں تک کہ (آخر میں ) انڈے جیسے چھوٹے(صدقے) کی مثال دی۔پھر جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو(اندراج کے) صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور(فرشتے) ذکر ونصیحت(سننے) کے لئے حاضر ہوجاتے ہیں۔"