صحيح مسلم - حدیث 1949

کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَخَافُنِي قَالَ لَا قَالَ فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ قَالَ فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ قَالَ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ قَالَ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1949

کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور خوف کی نماز ۔ ابان بن یزید نے کہا:ہم سے یحییٰ ابن کثیر نے ابو سلمہ(بن عبدالرحمان) سے حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ( جہاد پر) آئے۔حتیٰ کہ جب ہم ذات الرقاع(نامی پہاڑ) تک پہنچے۔کہا:ہماری عادت تھی کہ جب ہم کسی گھنے سائے والے درخت تک پہنچے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیتے،کہا:ایک مشرک آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت پر لٹکی ہوئی تھی،اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوارپکڑ لی،اسے میان سے نکالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا:کیا آپ مجھ سے ڈ رتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"نہیں۔"اس نے کہا: تو پھر آپ کومجھ سے کون بچائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:" اللہ تعالیٰ مجھے تم سےمحفوظ فرمائے گا۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اسے دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں ڈال لی اور اسے لٹکایا۔اس کے بعد نماز کے لئے اذان کہی گئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی،پھر وہ گروہ پیچھے چلا گیااس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔کہا اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی دو دو رکعتیں۔