کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ صحيح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَضَتْ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَإِذَا كَانَ خَوْفٌ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَلِّ رَاكِبًا أَوْ قَائِمًا تُومِئُ إِيمَاءً
کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور خوف کی نماز نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے جنگ کے ایام میں سے ایک دن نماز خوف پڑھائی،ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کے لئے کھڑہوگیا۔اور دوسرا دشمن کے بالمقابل۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو ایک رکعت پڑھا دی،پھر یہ لوگ(دشمن کے مقابلےمیں ) چلے گئے اور دوسرے آگئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھا دی،پھر ان دونوں گروہوں نے(یکے بعد دیگرے) ایک ایک رکعت اداکرلی۔(نافع) نے کہا:ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:اگر خوف اس سے زیادہ ہو(اور صف بندی ممکن نہ ہو) تو سواری پر یا کھڑے کھڑے اشاارہ کرو اور نماز پڑھ لو۔