کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا صحيح و حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ دَاوُدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ
کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور وہ اوقات جن میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے منصور نے قتادہ سے روا یت کی انھوں نے کہا: ہمیں ابو عالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سے زیادہ ساتھیوں سے سنا ہے ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہو نے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ہے۔