کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ صحيح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ قَالَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي ثُمَّ قَالَ أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ
کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور مختلف قراءتوں کے بارے میں مغیرہ نے ابرا ہیم سے روا یت کی،انھوں نے کہا:علقم ہشام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہو ئے اس میں نماز پڑھی ،پھر لو گو ں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے اتنے میں ایک صاحب آئے تو مجھے ان کے (ارد گرد )لو گوں کے اکٹھا ہو نے اور (انکی وجہ سے )ایک خاص ہیئت اختیار کر لینے کا پتہ چل گیا (اس سے معلوم ہو تا تھا کہ وہ خاص شخصیت ہیں)(علقمہ نے کہا: وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے ۔پھر فر ما یا :عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ )جس طرح پڑھا کرتے تھے کیا تمھیں وہ یاد ہے؟ اس کے بعد اسی (پہلی حدیث کی)طرح بیان کیا ۔