صحيح مسلم - حدیث 1914

کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ أَدَالًا أَمْ ذَالًا قَالَ بَلْ دَالًا سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مُدَّكِرٍ دَالًا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1914

کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور مختلف قراءتوں کے بارے میں زہیر نے کہا :ہم سے ابو اسحاق نے حدیث بیان کی،انھوں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اسود بن یزید (سبیعی کوفی) سے جبکہ وہ مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے ۔سوال کیا :تم اس (آیت )کو کیسے پڑھتے ہو ؟دال پڑھتے یا ذال ؟ انھوں نے جواب دیا:دال پڑھتا ہوں ۔میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ بتا رہے تھے ۔کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ‌ دال کے ساتھ پڑھتے سنا ۔