کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به بَابُ فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُهُ، وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ، أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا صحيح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ اللَّيْثِيُّ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ
کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور 47جس شخص کی فضیلت جو خود قرآن کے ساتھ(اس کی تلاوت کرتے ہوئے)قیام کرتا ہے اور (دوسروں کو)اس کی تعلیم دیتا ہے اور اس انسان کی فضیلت جس نے فقہ وغیرہ پر مشتمل حکمت (سنت )سیکھی ‘اس پر عمل کیا اور اس کی تعلیم دی شعیب نے زہری سے خبر دی،انھوں نے کہا:مجھے عامر بن واثلہ لیثی نے حدیث بیان کی کہ نافع بن عبدالحارث خزاعی نے عسفان(کے مقام ) پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی۔۔۔(آگے) زہری سے ابراہیم بن سعد کی روایت کی طرح بیان کیا۔