کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به بَابُ فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلِاسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ صحيح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا رَفَعْتُ رَأْسِي أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ
کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور قرآن مجید بغور سننے ‘سننے کے لیے حافظ قرآن سے پڑھنے کی فرمائش اور قراءت کے دوران رونے اور اس پرغور و فکر کرنے کی فضیلت حفص بن غیاث نے اعمش سے روایت کی،انھوں نے ابراہیم سے،انھوں عبیدہ (سلمانی) سےاور انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:"میرے سامنے قرآن مجید کی قراءت کرو۔"انھوں نے کہا:میں نے عرض کی:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کو سناؤں،جبکہ آپ پر ہی تو (قرآن مجید ) نازل ہوا ہے؟آپ نے فرمایا:" میری خواہش ہے کہ میں اسےکسی دوسرے سے سنوں۔"تو میں نے سورہ نساء کی قراءت شروع کی،جب میں اس آیت پر پہنچا: فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِن کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَیٰ ہَـٰؤُلَاءِ شَہِیدًا "اس وقت کیا حال ہوگا ،جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے۔"تو میں نے اپنا سر اٹھایا،یا میرے پہلو میں موجود آدمی نے مجھے ٹھوکا دیا تو میں نے اپنا سر اٹھایا،میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے۔