صحيح مسلم - حدیث 1829

كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ فَضِيلَةِ الْعَمَلِ الدَّائِمِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَغَيْرِهِ صحيح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنْ الْأَيَّامِ قَالَتْ لَا كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1829

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان رات کے قیام اور دیگر اعمال میں سے ان اعمال کی فضیلت جن پرہمیشگی ہو علقمہ سے روایت ہے کہا میں نے ام المومنین !عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا اور کہا ام المومنین !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی کیفیت کیا تھی؟کیا آپ(کسی خاص عمل کے لیے )کچھ ایام مخصوص فر ما لیتے تھے؟انھوں نے فر ما یا :نہیں آپ کا عمل دائمی ہو تا تھا اور تم میں سے کو ن اس قدر استطاعت رکھتا ہے جتنی استطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تھی ؟