كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ صحيح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ
کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان نفل نماز گھر میں پڑھنے کا استحباب اور مسجدمیں پڑھنے کا جواز موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ،کہا: میں نے ابو نضرسے سنا انھوں نے بسر بن سعید سے اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے ایک حجرہ بنوایا اور آپ نے اس میں چند راتیں نماز پڑھی حتیٰ کہ آپ کے پاس لو گ جمع ہو گئے۔۔۔پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : )"اگر تم پر نماز فرض کر دی گئی تو تم (سب) اس کی پابندی نہیں کر سکو گے ۔"(یہ حجرہ اعتکاف کے لیے تھا۔)