كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ صحيح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْوِتْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَقَالَ فِيهِ: قَالَتْ: مَنْ هِشَامٌ؟ قُلْتُ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَتْ: نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ
کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان رات کی نماز کے جامع مسائل ‘اور اس کا بیان جو سویارہ گیا یا بیمار ہو گیا محمد بن بشر نے کہا:ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے حدیث سنائی،کہا: ہم سے قتادہ نے حدیث بیا ن کی،انھوں نے زراہ بن اوفیٰ سے اور انھوں نے سعد بن ہشام سے رویت کی کہ انھوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےپاس گیا اور ان سے وتر کےبارے میں سوال کیا۔۔(اس کے بعد)انھوں نے اپنے پورے قصے سمیت حدیث بیان کی اور اس میں کہا: انھوں(حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا: کون ہشام؟میں نے عرض کی:عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے۔انھوں نے کہا:عامر بہت اچھے انسان تھے اُحد کے دن شہید ہوئے۔