كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ صحيح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِ آخِرَهُ ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ يَنَامُ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ قَالَتْ وَثَبَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ
کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان رات کی نماز ‘رسول اللہ ﷺکی رات کی (نماز کی)رکعتوں کی تعداد اور اس بات کا بیان کہ وتر ایک رکعت ہے اور ایک رکعت صحیح نماز ہے ابو خثیمہ(زہیر بن معاویہ) نے ابو اسحاق سے خبر دی،کہا: میں نے اسود بن یزید سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا جو ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کی تھی۔انھوں(عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصے میں سوجاتے اور آخری حصے کو زندہ کرتے(اللہ کے سامنے قیام فرماتے ہوئے جاگتے)پھر اگر اپنے گھر والوں سےکوئی ضرورت ہوتی تو اپنی ضرورت پوری کرتے اور سوجاتے،پھر جب پہلی اذان کا وقت ہوتا تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:آپ اچھل کر کھڑے ہوجاتے(راوی نے کہا:) اللہ کی قسم!عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وثب کہا،قام(کھڑے ہوتے) نہیں کہا۔پھر اپنے اوپر پانی بہاتے،اللہ کی قسم! انھوں نے اغتسل(نہاتے) نہیں کہا:"اپنے اوپر پانی بہاتے"میں جانتا ہوں ان کی مراد کیا تھی۔(یعنی زیادہ مقدار میں پانی بہاتے)اور اگر آپ جنبی نہ ہوتے تو جس طرح آدمی نماز کے لئے وضو کرتا ہے،اسی طرح وضو فرماتے،پھر دو رکعتیں (سنت فجر) ادا فرماتے۔