كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ، وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ صحيح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ إِلَّا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَوْ إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَتْ أَمُّ حَبِيبَةَ فَمَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ و قَالَ عَمْرٌو مَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ و قَالَ النُّعْمَانُ مِثْلَ ذَلِكَ
کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان فرائض سے پہلے اور بعد میں ادا کی جانے والی سنتوں کی فضیلت اور تعداد محمد بن جعفر نے کہا:ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث سنائی،انھوں نے عمرو بن اوس سے انھوں نے عنبسہ بن ابی سفیان سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آ پ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے:”کوئی ایسا مسلمان بندہ نہیں جو ہر روز اللہ کے لئے فرائض کے علاوہ بارہ رکعات سنتیں ادا کرتا ہے مگر اللہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔یا اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دیاجاتا ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں اب تک انھیں مسلسل اداکرتے آرہی ہوں۔ عمرو نے کہا:میں اب تک ان کو ہمیشہ ادا کر تا آرہاہوں۔نعمان نے بھی اس کے مطابق کہا۔