كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا صحيح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي شَأْنِ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا
کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان فجر کی دو سنتوں کا مستحب ہونا ‘ان کی ترغیب‘ان کو مختصر پڑھنا ‘ہمیشہ ان کی پابندی کرنا اور اس بات کا بیان کہ ان میں کون سی (سورتوں کی )قراءت مستحب ہے معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے طلوع فجر کے وقت کی دورکعتوں کے بارے میں فرمایا:"وہ دو (رکعتیں) مجھے ساری دنیا سے زیادہ پسند ہیں۔"