صحيح مسلم - حدیث 1686

كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا صحيح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنْ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1686

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان فجر کی دو سنتوں کا مستحب ہونا ‘ان کی ترغیب‘ان کو مختصر پڑھنا ‘ہمیشہ ان کی پابندی کرنا اور اس بات کا بیان کہ ان میں کون سی (سورتوں کی )قراءت مستحب ہے یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے روایت کی،انھوں نے کہا:مجھے عطاء بن عبید بن عمیر سے حدیث سنائی اور ا نھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی اور (نماز) کی اتنی زیادہ پاسداری نہیں کرتے تھے جتنی آپ صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کی کرتے تھے۔