كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا صحيح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان فجر کی دو سنتوں کا مستحب ہونا ‘ان کی ترغیب‘ان کو مختصر پڑھنا ‘ہمیشہ ان کی پابندی کرنا اور اس بات کا بیان کہ ان میں کون سی (سورتوں کی )قراءت مستحب ہے محمد بن جعفر نے کہا:ہمیں شعبہ نے زید بن محمد سے حدیث سنائی،انھوں نے کہا:میں نے نافع سے سنا،وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے تھے اور وہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت بیان کررہے تھے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:جب فجر طلوع ہوجاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مختصر رکعتوں کے سوا کوئی نماز نہ پڑھتے تھے۔