كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ الضُّحَى، وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ، وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَأَوْسَطُهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، أَوْ سِتٍّ، وَالْحَثُّ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا صحيح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ أَوْصَانِي حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَنْ أَدَعَهُنَّ مَا عِشْتُ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَلَاةِ الضُّحَى وَبِأَنْ لَا أَنَامَ حَتَّى أُوتِرَ
کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان نماز چاشت کا استحباب ‘یہ کم از کم دو رکعتیں ‘مکمل آٹھ رکعتیں اور درمیانی صورت چار یا چھ رکعتیں ہیں‘نیز اس نماز کی پابندی کی تلقین حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،انھوں نے کہا:میرےحبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین فرمائی ہے،جب تک میں زندہ رہوں گا ان کو کبھی ترک نہیں کروں گا،ہر ماہ تین دنوں کے روزے ،چاشت کی نماز اور یہ کہ جب تک وتر نہ پڑھ لوں نہ سوؤں۔