صحيح مسلم - حدیث 1662

كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ الضُّحَى، وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ، وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَأَوْسَطُهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، أَوْ سِتٍّ، وَالْحَثُّ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1662

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان نماز چاشت کا استحباب ‘یہ کم از کم دو رکعتیں ‘مکمل آٹھ رکعتیں اور درمیانی صورت چار یا چھ رکعتیں ہیں‘نیز اس نماز کی پابندی کی تلقین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ،انھوں نے کہا:میں نے کبھی ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (گھر میں قیام کے دوران میں ) چاشت کے نفل پڑھتے نہیں دیکھا،جبکہ میں چاشت کی نماز پڑھتی ہوں۔یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کو کرنا پسند فرماتے تھے۔لیکن اس ڈر سے کہ لوگ(بھی آپ کو دیکھ کر) وہ کام کریں گےاور (ان کی د لچسپی کی بناء پر) وہ کام ان پر فرض کردیا جائے گا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کام کو چھوڑ دیتے تھے۔