كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ صحيح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَلَا تَقُلْ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قُلْ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ قَالَ فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَاكَ فَقَالَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ ذَا قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ فَتَمْشُوا فِي الطِّينِ وَالدَّحْضْ
کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان بارش کے وقت گھروں میں نماز پڑھنا اسماعیل(ابن علیہ) نے (ابن ابی سفیان) الزیادی کے ساتھی عبدالحمید سے،انھوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے ایک بارش والے دن اپنے موذن سے فرمایا:جب تم اشہد ان لا الہ الا اللہ اشہد ان محمد ا رسول اللہ کہہ چکو تو حیی علی الصلوۃ نہ کہنا(بلکہ) صَلُّوا فِی بُیُوتِکُمْ (اپنے گھروں میں نماز پڑھو)کہنا۔ کہا: لوگوں نے گویا اس کو ایک غیر معروف کام سمجھا تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:کیاتم اس پر تعجب کررہے ہو؟ یہ کام انھوں نے کیا جو مجھ سے بہت زیادہ بہترتھے۔جمعہ پڑھنالازم ہے اور مجھے برا معلوم ہوا کہ میں تمھیں تنگی میں مبتلا کروں اور تم کیچڑاور پھسلن میں چل کر آؤ۔