كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ قُلْتُ كَمْ أَقَامَ بِمَكَّةَ قَالَ عَشْرًاَ
کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان مسافروں کی نماز اور اس کی قصر ہشیم نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے ،انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لئے نکلے تو آپ دو رکعت نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ مدینہ واپس پہنچ گئے۔ راوی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا:آپ مکہ کتنا عرصہ ٹھرے؟انھوں نے جواب دیا:دس دن (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ آکر خود مکہ ،منیٰ ،عرفات اور مزدلفۃ مختلف مقامات پردس دن گزارے۔)