كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا صحيح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الصَّلَاةَ أَوَّلَ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ مَا بَالُ عَائِشَةَ تُتِمُّ فِي السَّفَرِ قَالَ إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ كَمَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ
کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان مسافروں کی نماز اور اس کی قصر ابن عینیہ نے زہری سے انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ابتدا میں نماز دو رکعت فرض کی گئی،پھر سفر کی نماز،(اسی حالت میں) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز مکمل کردی گئی۔ امام زہری نے کہا: میں نے عروہ سے پوچھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا موقف کیا ہے۔وہ سفر میں پوری نماز(کیوں ) پڑھتی تھیں؟انھوں نے کہا:انھوں نے اس کا ایک مفہوم لے لیا ہے جس طرح عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیا۔