كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ صحيح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، فَسَأَلَنَا عَنْ مَنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: «ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ»
کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں امامت پر زیادہ حق کس کا ہے؟ اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہم سے ایوب نے ابو قلابہ سے حدیث بیان کی، انھوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے، ہم نے آپ کے پاس بیس راتیں قیام کیا۔ اللہ کے رسول ﷺ بہت مہربان اور نرم دل تھے، آپ نے خیال فرمایا کہ ہمیں گھر والوں کے پاس جانے کا اشتیاق ہو گا، آپ نے ہم سے ہمارے ان گھر والوں کے بارے میں سوال کیا جنھیں ہم چھوڑ آئے تھے، ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ‘‘اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، انھی کے درمیان رہو، انھیں تعلیم دو اور انھیں (اچھائی پر چلنے کا) حکم دو، چنانچہ جب نماز کا وقت آئے تو ایک آدمی تم سب کے لئے اذان کہے، پھر تم میں سے (جو عمر میں) سب سے بڑا ہو وہ تمھاری امامت کرے۔