كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ تُمْحَى بِهِ الْخَطَايَا، وَتُرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتُ صحيح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ، غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ». قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ: «وَمَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنَ الدَّرَنِ؟»
کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں مسجد میں نماز کے لیے چل کر آنے سے گناہ مٹائے جاتے ہیں اور اس سے درجات بلند کیے جاتے ہیں اعمش نے ابو سفیان (طلحہ بن نافع) سے، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘‘پانچ نمازوں کی مثال تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر چلتی ہویئ بہت بڑی نہر کی سی ہے، وہ اس میں سے روزانہ پانچ دفعہ غسل کرتا ہو۔’’ (اعمش نے ابوسفیان کی بجائے حسن کے حوالے سے روایت کرتے ہوئے ) کہا: حسن نے کہا:یہ غسل اس کے جسم پر کوئی میل کچیل نہیں چھوڑے گا۔