صحيح مسلم - حدیث 1499

كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ، وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ، وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ، دَعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: «قُومُوا فَأُصَلِّيَ لَكُمْ»، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا، وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ، وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا، فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1499

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں نفل نماز کی جماعت اور پاک چٹائی ، جائے نماز اور کپڑے وغیرہ پر نماز پڑھنا جائز ہے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نےحضرت انس بن مالک ﷜ سے روایت کی کہ ان کی نانی ملیکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کوکھانے پر بلایا جو انھوں نے تیار کیا تھا ۔ آپ ﷺ نے اس میں سے (کچھ )تناول کیا ، پھر فرمایا :’’کھڑے ہو جاؤ میں تمھاری (برکت کی )خاطر نماز پڑھوں ۔ ‘‘ انس بن مالک ﷜ نے کہا : میں کھڑا ہوا اور اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا جو لمبا عرصہ استعمال ہونےکی وجہ سے کالی ہو چکی تھی ، میں نے (اسےصاف کرنے کےلیے )اس پر پانی بہایا تو رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے ، میں اور (وہاں موجود ایک )یتیم بچے نے آپ کے پیچھے صف بنائی ، بوڑھی خاتون ہمارے پیچھے (کھڑی )ہوگئیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے (حصول برکت کے )لیے دو رکعت نماز پڑھی، پھر تشریف لے گئے ۔