صحيح مسلم - حدیث 1481

كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا صحيح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدَ نَاسًا فِي بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا، فَآمُرَ بِهِمْ فَيُحَرِّقُوا عَلَيْهِمْ، بِحُزَمِ الْحَطَبِ بُيُوتَهُمْ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا لَشَهِدَهَا» يَعْنِي صَلَاةَ الْعِشَاءِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1481

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں باجماعت نماز کی فضیلت ، اس سے پیچھے رہنے پروعید اور (وضاحت کہ )نماز باجماعت فرض کفایہ ہے اعرج نےحضرت ابو ہریرہ ﷜ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے کچھ لوگوں کو ایک نماز میں غیر حاضر پایا تو فرمایا : ’’میں نے (یہا ں تک )سوچا کہ کسی آدمی کو لوگوں کی امامت کرانے کا حکم دو ں ، پھر دوسری طرف سے ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہتےہیں اور ان کے بار ے میں (اپنے کارندوں کو )حکم دوں کہ لکڑیوں کے گٹھوں سے آگ بھڑکا کر ان کے گھروں کو ان پر جلا دیں ۔ ان میں سے اگرکسی کو یقین ہو کہ نماز میں حاضری سے اسے فربہ (گوشت سے بھر ہوئی )ہڈی ملے گی تو وہ اس میں ضرور حاضر ہو جائے گا ۔‘‘ آپ ﷺ کی مراد عشاء کی نماز سے تھی ۔